رسول اللہﷺنے غلطیوں کی اصلاح کیسے فرمائی! محمد فرقان فلاحی دنیا میں ایک عام دستور ہے کہ جب کسی انسان میں اچھے اوصاف زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں تواس کی تعظیم کے لئے سر خود بخود جھکا دئیے جاتے ہیں،اسی طرح جب کسی چیز میں اعلیٰ قسم کی عمدگی پائی جاتی ہے تو اسی کی جنس کی دوسری چیزوں پر اسے فوقیت دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی جاتی ،بسا اوقات اس سلسلہ میں غلو اور مبالغہ اس حد تک پہونچ جاتا ہے کہ بعض وہ خامیاں جو شخصیت کو مجروح کردیتی ہوں یا کسی چیز کی افادیت کو گھٹا دیتی ہوں ان سے بھی آنکھیں موند لی جاتی ہیں،جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو اوصاف اچھے ہیں ان کی تعریف و توصیف کی جائے اور جو باتیں غلط ہوں ان پر مناسب انداز میں نکیر کی جائے تاکہ شخصیت میں نکھار آئے اورانگلی اٹھانے کے لئے کوئی موقع باقی نہ رہے۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس دنیائے فانی میں نہ کوئی ملکی قانون اور نہ ہی کوئی انسانی ت...
Practical Islamic Guidance for Everyday Life